19 مئی 2026 - 17:09
ٹرمپ ایک بار پھر، پسپا کیوں ہؤا؟

امریکی صدر نے گذشتہ رات اعلان کیا کہ وہ بعض عرب ممالک کے عہدیداران کی درخواست پر ایران پر حملے سے باز آ گیا ہے لیکن ایرانی پارلیمان کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے رکن کا کہنا ہے کہ ایران کا فیصلہ کن پیغام ٹرمپ کی 'رسوا کن' پسپائی کا اصل سبب تھا۔

اہل بیت(ع) نیوزایجنسی ـ ابنا؛ امریکی صدر ٹرمپ نے نے پیر کی رات سوشل نیٹ ورک 'ٹروتھ سوشل' پر ایک پیغام میں ایک بار پھر ایران پر فوجی حملے کے اپنے دعوے سے پسپا ہوتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس نے یہ فیصلہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے رہنماؤں کی درخواست پر اور 'تہران کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کے مبینہ تسلسل' کی وجہ سے ملتوی کر دیا ہے۔

امریکی صدر نے اپنے اس اقدام کا جواز پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ قطر کے امیر تمیم بن حمد آل ثانی، سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور امارات کے حاکم محمد بن زائد نے اس سے کہا کہ وہ ایران کے خلاف منصوبہ بند فوجی حملہ روک دیں، جو منگل کو ہونا تھا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمان کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے رکن مجتبیٰ زارعی، نے ٹرمپ کے دعوؤں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: بدعنوان ٹرمپ نے چند رجعت پسند حکام اور ایرانی عوام کے قتل عام میں اپنے جارح ساتھیوں کے نام گنوا کر یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ گویا انہوں نے اس سے کل رات کے حملے روکنے کی درخواست کی ہے، جبکہ یہ جھوٹ ہے۔ خاص طور پر امارات کا حکمران جانتا ہے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے اگلے حملے میں اس کو کن کن اچنبھوں کا سامنا کرنا ہے اور بہتر ہے کہ وہ ابھی سے تیراکی اور غوطہ خوری سیکھ لے!

انھوں نے کہا: ٹرمپ اور اس کے مجرم ساتھیوں کی ٹویٹس کی کوئی حیثیت نہیں اور ہماری انگلیاں ٹرگر پر ہیں۔

انہوں نے ـ امریکہ اور ایران کے درمیان دستاویزات کے تبادلے کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہ ـ قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے کل کے اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: امریکہ نے ایران کے مطالبات کو پانچ عمومی شقوں کی شکل میں ترتیب دے کر پاکستان کو دے دیا تھا۔ ایران نے بھی امام سید مجتبیٰ خامنہ ای (حفظہ اللہ) کے پہلے سے اعلان کردہ فریم ورک کی بنیاد پر عمومی پالیسیوں اور بعض تفصیلی اجزاء کو مجرم امریکہ کی ترتیب دی گئی پانچ نکاتی منصوبے کے جواب میں، ارسال اور تفہیم کیا۔

زارعی نے مزید کہا: پاکستان کے وزیر داخلہ کا داخلی سیاست کے شعبے میں کوئی کام نہیں تھا اور وہ بنیادی طور پر نیک نیتی سے آئے تھے کہ ایران کو راغب کرے۔ لیکن ہمارے اچھے پاکستانی بھائیوں کو تاکید کے ساتھ کہہ دیا گیا کہ ایران اپنے مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں مکمل جنگ کے لئے تیار ہے! پاکستان کے نمائندوں کو واضح تحریری اور براہِ راست پیغامات دیئے گئے۔

قومی سلامتی کمیشن کے رکن نے واضح کیا: اب امریکہ کے بدعنوان اور ایپسٹینی حکمرانوں نے ایران کی اس طاقت و پامردی اور اپنی بزدلی کو امریکی رائے عامہ، عالمی منڈیوں اور رجعت پسند عرب حکمرانوں کے سامنے پیش کر دیا۔

انھوں نے کہا: البتہ ہم جب عرب حکمرانوں کا تذکرہ کرتے ہیں تو اس کا مطلب شریف عرب قومیں نہیں ہیں، جو امام اور امت کے ہاں پڑوسی اور عرب-اسلامی شرافت کے اعتبار سے مقام و مرتبے کی مالک ہیں۔

انھوں نے زور دے کر کہا: ٹرمپ اور اس کے مجرم ساتھیوں کی جنگ بندی، جنگ اور امن کے بارے میں ٹویٹس کی فوجی، سیاسی، سیکیورٹی اور اقتصادی عہدیداران اور نیز عظیم ایرانی قوم کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں ہے اور ہماری انگلیاں ٹرگر پر ہیں۔

زارعی نے کہا: ہرمز کے قریب امریکی افواج کے لئے زیادہ وقت باقی نہیں رہا ہے۔ بحری ناکہ بندی، اگرچہ ایران کی وسیع و عریض ملک پر زیادہ اثر انداز نہیں ہوتی، لیکن جلد ہی ہم ایرانی طاقت سے اس ناکہ بندی کو ختم کر دیں گے!

ادھر برطانوی اخبار گارڈین نے  لکھا ہے کہ خطے کے مذکورہ حکام نے ٹرمپ سے کوئی درخواست نہیں کی ہے، ٹرمپ نے بس ایک بہانہ بنایا پسپائی کا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

ٹرمپ ایک بار پھر، پسپا کیوں ہؤا؟

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha